اوپریسڈ واچ

مظلوم کی آواز

ترکیہ اور اسرائیل کا تنازع؛ سیکیورٹی سے نکل کر معاشی و علاقائی اثر و رسوخ میں تبدیل ہو گیا

ایک صحافتی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اب شام میں ترکیہ کے ساتھ مقابلے کو صرف ایک عسکری یا سیکیورٹی مسئلہ نہیں سمجھتا، بلکہ اسے ایک معاشی اور جیواسٹراٹیجک جنگ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتنیاہو نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران شام کا نقشہ پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ شام میں ترکیہ کا اثر و رسوخ اسرائیل کے مقابلے میں 50 گنا زیادہ ہے، تاکہ امریکہ کو اس چیلنج کی سنگینی کا احساس دلایا جا سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ امریکہ ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر اس کے خدشات کو اہمیت نہیں دے رہا، خصوصاً جب سے صدر ٹرمپ نے ترکیہ کو F-35 طیاروں کی ڈیل اور شام کی عبوری حکومت کو لبنان میں کردار دینے کے اشارے دیے ہیں۔

اس سلسلے میں اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کیٹس نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو اسرائیل کے ساتھ الجھنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی اور کہا کہ اسرائیل شام میں ایسی کوئی طاقت بننے نہیں دے گا جو اس کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہو۔ جب کہ اسرائیلی وزیر برائے غیر ملکی امور عمیحائی شیکلی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اس خلا کو پر کر رہا ہے جو ایران کے جانے سے پیدا ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترکیہ اب ایک ایسا زمینی راہداری (Land Corridor) بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو عراق اور شام کو جوڑ کر ہرمز کی آبنائے پر انحصار کم کرے، جبکہ اسرائیل اس کے مقابلے میں بحرِ احمر سے اسرائیل اور پھر بحیرہ روم تک توانائی کا متبادل راستہ بنانا چاہتا ہے۔ اگرچہ دونوں کے درمیان فی الحال براہِ راست فوجی تصادم کا امکان کم ہے، لیکن علاقائی اثر و رسوخ کی یہ جنگ شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔

سورس: الأيام، رام اللہ